بھارتی آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدہ
پانی رب کائنات کی عظیم نعمت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث اس نعمت کی افادیت میں کمی کے ساتھ ساتھ اس میں قلت بھی ہوتی جارہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، 2025ءتک دنیا کے تقریباً پونے تین ارب انسان پانی سے محروم ہوجائیں گے۔ پانی کے بحران، آبی قلت اور آبی آلودگی ایسے مسائل کے بارے آگاہی بڑھانے کیلئے ہر برس 22 مارچ کو عالمی یوم آب منایا جاتا ہے۔ رواں سال 26واں یوم آب منایا گیا۔ دنیا بھر میں کئی اجلاس ہوئے جن میں سیلاب، قحط اور آبی آلودگی کوکم کرنے پر زور دیا گیا۔ انسانوں کی طرح قوموں کیلئے بھی پانی کی موجودگی اور عدم موجودگی تزویراتی لحاظ سے زندگی یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔وطن عزیز کا آبی نظام دریائے سندھ پر منحصر ہے۔ پاکستان کی معیشت کیلئے ضروری شعبہ ¿ زراعت اور توانائی کی پیداوار میں یہ دریا کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ دریائے سندھ وجودِ پاکستان کی شریانوں میں دوڑتے خون کی مانند ہے۔ اس دریا کا سالانہ مجموعی بہاﺅ دریائے نیل سے دو گنا جبکہ دجلہ و فرات سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے باوجود ماحولیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث وطن عزیز میں محض ایک ہزار مکعب میٹر فی کس پانی دس...
Comments
Post a Comment