ممبئی حملوں سے ”گرے لسٹ“ تک
بھارتی یلغار کے 10 سال
موجودہ دور میں روشنی کی رفتار معلومات کے سونامی کے آگے ماند پڑھ چکی ہے۔ شاید اسی وجہ سے سچ کی تلاش موجودہ دور میں روشنی کی رفتار معلومات کے سونامی کے آگے ماند پڑھ چکی ہے۔ شاید اسی وجہ سے سچ کی تلاش کا عمل بھی مشکل ہوگیا ہے۔ بڑھتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے باعث پراپیگنڈہ اور اس کے مقاصد کا حصول آسان ہو چکا ہے۔ پراپیگنڈہ کے ذریعے رسمی و غیر رسمی اور نفسیاتی جنگوں کے عزائم حاصل کرنے میں معاونت ملتی ہے۔ درحقیقت، جنگوں کے آغاز سے قبل ہی سائڈلائنز پر کئی محاذ کھولے جاتے اور ان پر فتوحات کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔ 19ویں صدی کے اواخر میں ہونے والی ہسپانوی امریکی جنگ سے قبل امریکی اخباروں میں ہرسٹ اور پولٹزر کی لڑائی ہو یا دوسری عالمی جنگ سے قبل نازی پراپیگنڈہ، میڈیا نے ہمیشہ عوام الناس کے خیالات و جذبات وضع کر کے جنگوں کی حمایت یا مخالفت میں آراءتشکیل دیں۔ لہٰذا دور حاظر میں میڈیا کے مناسب یا غیر مناسب کردار کی شناخت کیلئے آزادانہ تحقیقی صحافت ناگزیر ہے۔
گزشتہ برس، جرمن مصنف الیاس ڈیوڈسن نے ممبئی حملوں پر ایک تحقیقی کتاب تحریر کی۔ ان حملوں کو بھارت کا نائن الیون بھی کہا جاتا ہے۔ اس موازنے کی وجہ جانی نقصان نہیں بلکہ ان حملوں کی ابتداءاور تفتیش کے حوالے سے پائے جانے والے تنازعات ہیں جو کسی بھی طور نائن الیون سے کم نہیں۔ کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے مصنف نے کہا کہ ”یہ کتاب بھارتی قوم کے ساتھ اس غداری کی عکاسی کرتی ہے جو بھارت کی بدعنوان، غاصب اور ظالم اشرافیہ نے اقتدار اور مفاد کی خاطر عام بھارتیوں کی زندگی کی اہمیت کو بالائے طاق رکھ کر انجام دی“ ڈیوڈسن نے بھارتی مظالم کی حقیقت افشاءکر کے عالمی برادری کے سامنے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ یقینا بھارتی راءکو ڈیوڈسن ایسے سراغ رساں تحقیق کاروں کی اشد ضرورت ہے۔ ڈیوڈسن نے ممبئی حملوں میں بھارت اور امریکا کے اہم اداروں کی ملی بھگت کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔ چنانچہ ممبئی حملوں کے بعد، بھارت کے دفاعی بجٹ میں 21 فیصد اضافہ کرنے کے علاوہ آئندہ برسوں میں اضافے کی شرح مزید بڑھانے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ ڈیوڈسن نے بھارتی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں پر بھی انگلی اٹھائی ہے کہ انہوں نے ممبئی حملوں کا منصوبہ تشکیل دینے، اس کو عملی جامہ پہنانے اور اس کی جعلی تفتیش کرنے میں کوئی کسر روا نہ رکھی۔ دونوں ممالک انسانیت سوز جرائم کرنے میںقدرتی حلیف ہونے کے ساتھ ساتھ جغرافیائی و تزویراتی شراکت دار بھی ہیں۔ یاد رہے کہ بھارت اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے جن میں اسرائیل کے میزائل دفاعی آلات سر فہرست ہیں۔ بھارت کا شمار اسرائیل کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کا ذخیرہ کرنے والے ممالک میں ہو تا ہے۔ مصنف نے بھارتی انتظامیہ کے خلاف کئی ثبوت جمع کئے۔انہوں نے بھارتی نائن الیون کی سرکاری تحقیقات پر برہمی کا اظہار کیا اور عالمی برادری کو اس کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے بھی کہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا، سیاستدانوں، عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے طے شدہ حکمت عملی کے تحت ممبئی حملوں سے کئی مفادات حاصل کئے۔ ان کی تحقیق کے مطابق بھارتی عدالتوں اور میڈیا نے کئی اہم چشم دید گواہوں کے بیانات کو منظر عام پر لانے سے ممانعت اختیار کی۔ علاوہ ازیں، کمانڈوز کے اس دستے کو بیانات ریکارڈ پر لانے سے بھی روک دیا گیا جنہیں آٹھ یادس مبینہ دہشت گرودوں سے نبرد آزما ہونے کےلئے بھیجا گیا۔ واضح رہے کہ بھارت کی تمام ریاستی مشینری اور دہشت گردوں کے درمیان چوہے اور بلی کی یہ لڑائی تین دن تک جاری رہی۔
جب کسی واقعے کے دوران ہی مجرموں کی شناخت ہوجائے تو یہ امر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ ممبئی حملوں کے دوران بھارتی میڈیا نے ششدر ہوکر الزامات کی بھرمار لگا دی۔ یہاں تک کہ ممبئی حملوں کے دوران بھارتی وزیر اعظم نے بھی دبے لفظوں اس بات کا عندیہ دیا کہ حملوں میں ملوث دہشت گرد تنظیم کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ ڈیوڈسن نے بھارتی میڈیا اور اداروں کے کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کا رویہ اندرونی سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مصنف کے مطابق بھارتی میڈیا اور سرکاری ادارے حقائق کو چھپاتے رہے۔ چنانچہ بھارتی عدالتوں نے اُن گواہوں کو نظر انداز کر دیا جو مبینہ دہشت گردوں کے ساتھ براہ راست تعلق میں آئے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”سیکڑوں گواہوں میں کسی ایک نے بھی دہشت گردوں کو کوئی ایک قتل کرتے نہیں دیکھا“ گواہوں کے بیانات اور ممبئی حملوں کی سرکاری تفتیش کے مطابق دہشت گردوں کی حقیقی تعداد آج بھی متضاد ہے۔ زندہ بچ جانے والے دہشت گردوں کی تعداد بھی تادم تحریر موضوعِ بحث ہے۔ اس بارے مختلف آراءپائی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ ممبئی حملوں کے مرکزی کردار کا پبلک ٹرائل بھی نہ ہوا۔ اس کے ایک وکیل کو عدالت نے ہٹا دیا جبکہ دوسرا وکیل قتل کر دیا گیا۔ اس کی پھانسی اور تدفین کے مقامات کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ اس کتاب میں سرکاری تفتیشی عمل میں تضادات اور بے قاعدگیوں کی طویل فہرست موجود ہے۔ مثال کے طور پر ایک جاں بحق شخص کو زندگی دے کر تفتیش کاروں نے پاکستان کے خلاف بیان درج کر ڈالا۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق ایک شخص کی ہلاکت دو مقامات پر درج کی گئی جبکہ رپورٹس میں ایک اور شخص کو تین مختلف جگہوں پر مارا گیا۔ تفتیش کے قواعد و قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے جائے وقوعہ کو بھی صاف کر دیا گیا۔ حملوں کے دوران بھارتی میڈیا نے خبریں دیں کہ دہشت گرد اے کے۔47 استعمال کر رہے تھے تاہم فرانزک رپورٹس میں کسی ایک گولی کی بھی شناخت نہ کی جاسکی جو اے کے۔47 سے چلائی گئی ہو۔ مصنف نے ”نیم فعال“ کیمروں کا بھی ذکر کیا ۔ ان کیمروں میں ریکارڈ شدہ تحریفی ویڈیو میں وقت کے فرق کے علاوہ ایڈٹنگ کے اثرات بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ مجرم کی حفاظت کرنا ارتکاب جرم سے بھی بڑا جرم ہے۔ بھارتی اداروں نے ممبئی حملوں کے اصل کرداروں کی پشت پناہی کی اور اہم گواہوں کو نظر انداز اور ثبوتوں مٹا کر بھارت سرکار نے اپنی عوام پر ظلم عظیم کیا۔ ڈیوڈسن کے مطابق عدالتوں میں پیش ہونے والے گواہوں کی اکثریت کا تعلق بھارتی میڈیا سے ہونا اس بات کی دلیل تھی کہ میڈیا اس سازش میں پیش پیش تھا۔ حملوںکے دوران میڈیا کوریج روک کرعوام تک معلومات کی رسائی بھی محدود کر دی گئی۔
اب اس حقیقت میں کوئی شک نہیں رہا کہ ممبئی حملوں کا اصل ہدف پاکستان تھا۔ ان کا مقصد پاکستان کی تحقیر کرنا تھا۔ انڈین میڈیا کے پراپیگنڈہ نے جوزف گیبلز کو بھی شرمسار کر دیا۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے علاوہ بھارت عالمی میڈیا منڈی کا بڑا حصہ دار بھی ہے۔ چنانچہ اس کے لئے دنیا کے سامنے اپنا موقف پیش کرنا آسان ہے۔ مبینہ دہشت گردی کا نشانہ بننے کے سبب بھارت اقوام عالم کے سامنے مظلوم بن کر پیش ہوا۔ ممبئی حملوں کے بعد بھارت ایک غیر محفوظ ریاست کے بجائے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا علمبردار بھی بن گیا۔ اس مظلومیت نے بھارت کو حق خود ارادیت کی کئی تحریکوں کو آہنی ہاتھوں سے کچلنے کا موقع فراہم کردیا۔ ان وجوہات کی بناءپر بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند عوام کو دبانے کا جواز مل گیا۔ جبکہ کشمیری عوام کے جذبات و خواہشات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کے سرکاری امتحان میں جغرافیا کے سوالیہ پرچے میں پاکستانی کشمیر کو آزاد کشمیر لکھا گیا۔
بھارت میں حکومت کانگریس کی ہو یا بی جے پی کی، اسلام اور پاکستان سے دشمنی ان کے لاشعور میں رچی بسی ہے۔ بھارتی حکمران پاکستان، اسلام اور اقلیتوں کے حوالے سے منفی بیان بازیاں اور کارروائیاں کرتے نہیں تھکتے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی خطے میں رام راج قائم کرنے کا خواب رکھتی ہے۔ 28 فروری 2018ء کو بھارت نے مذہبی آزادی سے متعلق امریکی عالمی کمیشن کے وفد کو ویزا دینے سے تیسری مرتبہ انکار کر دیا۔ یہ کمیشن بھارت کے سیاسی و سماجی رہنماﺅں سے ملنا، وہاںکی انسانی حقوق کی صورت حال اور مذہبی آزادی کا جائزہ لینا چاہتا تھا لیکن واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے نے اس کمیشن کے وفد کو ویزا دینے سے انکار کردیا۔ وفد کے رکن تھامس ریس کا کہنا تھا کہ ”نئی دہلی عیسائیوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مظالم کو عالمی برادری سے چھپانا چاہتا ہے“ انہوں نے مزید کہا کہ”بھارت میں سرکاری سرپرستی میں ہندوتوا کی مہم چلائی جارہی ہے“ ۔ واضح رہے کہ ایک جانب بھارتی حکمران شدھی اور سنگھٹن ایسی انتہاءپسند تحریکوں کا احیاءکر رہے ہیں تو دوسری طرف وہ ویشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شیو سینا ایسی درجنوں عسکریت پسند منظم مسلح تنظیموں کی غارت گریوں سے عمداً چشم بھی پوشی کر رہے ہیں۔ امریکا نے 2002ء میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کو انسانی حقوق کی بدترین پامالی قرار دیتے ہوئے نریندر مودی کو امریکا کا ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ جون 2014ء کے بعد امریکی اقدار اور پالیسیوں میں کلیتاً تغیر آ گیا ہے۔ باراک اوباما انتظامیہ نریندر مودی اور زعفرانی انقلاب کے علمبردار جن سنگھی سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کو سول نیوکلیئر اتحادی کی حیثیت سے مزید رعایتوں اور معاہدوں کا حقدارسمجھنے لگی۔ ایسے دوہرے معیار نے امریکی ساکھ کو عالمی سطح پر نقصان پہنچایا ہے۔
بھارت 2006ء سے امریکا کا اعلانیہ نیوکلیئر اتحادی اور گلوبل پارٹنر ہے۔ اس شراکت داری کے تحت، امریکی انتظامیہ چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لئے بھارت کو جوہری اور نیم جوہری آلات و ہتھیاروں کی فراہمی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارت علاقائی امن کو تہ و بالا کرنے کے لئے دنیا بھر کے اسلحہ ساز ممالک سے ہتھیار خرید رہا ہے۔ امریکی تعاون سے بھارت نے کئی مقامات پر ری پراسیسنگ پلانٹس بھی لگا رکھے ہیں۔ ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے مطابق بھارتی جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا عمل انتہائی غیرمحفوظ ہے اور کسی بھی وقت ہولناک حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔ بھارت کسی بھی طور چین کا حربی و معاشی میدان میں مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ چنانچہ بھارت اپنی اقتصادی، اسلحی اور عسکری بالادستی کے بل بوتے پر کمزور اور چھوٹے ہمسایہ ممالک کو دباﺅ میں رکھنا چاہتا ہے۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ بھارت خطے میں اسلحے کی دوڑ کو پروان چڑھاتا رہا ہے۔ رسمی عسکری طاقت ہو یا جوہری ہتھیاروں کا حصول، بھارت نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک پر فوجی اثر و رسوخ کی بناءپر تسلط قائم کرنے کی کوشش کی۔ بھارت اور امریکا کے مابین جوہری معاہدے خطے میں امن و امان کو تہ و بالا کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔ مغربی تجزیہ کار بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کا جوہری پروگرام اور ہتھیاروں کا حصول محض بھارتی دھمکیوں کا جواب ہیں۔ یقینا، پاکستان کی اولین ترجیح عسکری طاقت کا توازن قائم رکھ کر خطے میں استحکام امن کا حصول ہے۔ بھارت کا عسکری طاقت کا خبط اس قدر بڑھ چکا ہے کہ وہ خطے سے دور اہداف کو نشانہ بنانے والے میزائل بنا رہا ہے۔ اس نے جوہری آبدوزوں اور ایئرکرافٹ کیرئیرز کی خرید کا کام بھی تیز کر دیا ہے۔ پاکستان نے رد عمل کے طور پر بابر تھری میزائل کا کامیاب تجربہ اور چین سے آٹھ آبدوزوں کی خرید کا معاہدہ کیا۔ حال ہی میں پاک بحریہ نے بحیرہ ¿ عرب میں درمیانے فاصلے تک مارنے والے میزائل کا بھی کامیاب تجربہ کیا۔
بھارتی وزیراعظم نے 2016ءمیں کیرالہ کے شہر کوجھ کوڈ میں بی جے پی کی ریلی سے عوامی خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”بھارت پوری دنیا میں پاکستان کو الگ تھلگ کرنے میں کامیاب رہا ہے اور وہ یہ کام مزید تیز کرے گا“ یہ ایک الم ناک حقیقت ہے کہ بھارت پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم ایک پلان کے تحت چلا رہا ہے۔ وہ عالمی سفارتی سطح پر اپنے تئیں پاکستان کو تنہا کرنے کے بعد اس پر اقتصادی پابندیاں لگوانے کا خواہاں ہے۔ اس ضمن میں حال ہی میں پیرس میں ہونے والی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی کانفرنس میں بھارت کے ایماءپر امریکا اور چند مغربی ممالک کی کوشش تھی کہ پاکستان کا نام بھی ایران، ایتھوپیا اور دیگر 7 ممالک کی طرح گرے لسٹ میں شامل کردیا جائے۔اس اجلاس میں بھارت اور امریکا اپنی اس خواہش کو عملی جامہ نہ پہنا سکے تاہم پاکستان کو جون تک مہلت دی گئی ہے کہ وہ ہدایت کے مطابق انتظامی و قانونی اصلاحات کر کے دہشت گردی کی بیخ کنی کرے۔ ممبئی حملوں کا مقصد بھی پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے بدنام کر کے سفارتی سطح پر تنہا کرنا تھا تا کہ اس کی داخلی معیشت لڑکھڑا جائے۔ البتہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے پلیٹ فارم سے بھارت پاکستان پر مزید اقتصادی پابندیاں لگانے کے لیے اُس کا نام پہلے مرحلے پر گرے لسٹ میں اور بعد ازاں بلیک لسٹ میں شامل کروانا چاہتا ہے تا کہ پاکستان عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے معاشی پابندیوں کا ہدف بنایا جائے۔ ماضی میں امریکا پریسلر ترامیم اور مئی 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر اقصادی پابندیاں لگا چکا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی، داخلی خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کے تحفظ کے لیے جان کی بازی لگانے والی اس قوم نے پابندیوں کی پرواکئے بغیر داخلی معیشت کو مستحکم رکھا۔ ممبئی حملوں کے تقریباً 10 برس بعد بھارت اپنے پرانے خواب کو تعبیر دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور مشیر خارجہ نے قوم کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کرنے کی امریکی و مغربی اور بھارتی کوششوں کو کامیابی حاصل نہ ہو گی۔ یقیناً، پاکستان عالمی برادری کی امنگوں پر اسی طرح پورا اترے گا جس طرح پاکستان نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا اور آج بھی کر رہا ہے۔
ہمسایہ ممالک کے خلاف بھارتی عزائم کی طویل تاریخ موجود ہے۔ پاکستان کے علاوہ نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا اور چین بھی بھارت کی میلی نگاہوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ بھارت چانکیہ کوتیلیہ کی حکمت عملی پر کار فرما ہو کر اپنے ہمسایہ ممالک کو اولین دشمن اور دشمن کے ہمسایہ ممالک کو اپنا بہترین دوست قرار دیتا ہے۔ سری لنکا کے عقب میں مالدیپ، بنگلہ دیش کے عقب میں بھوٹان، چین کا ہمسایہ جاپان اور پاکستان کے مغربی ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان بھارت کی سیاسی جغرافیائی حکمت عملی میں اہم شراکت دار ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک میں باغیوں کی حمایت کی ہے۔ مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی ہو یا سری لنکا میں تامل ٹائیگرز، دونوں تنظیموں کو بھارت کی جانب سے حمایت، تربیت اور ساز و سامان مہیا ہوتا رہا۔ بھارت خطے کا تھانےدار بننے کے خبط میں پاکستان کو بھی بھوٹان، نیپال اور سکم بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے جبکہ پاکستان ایک مسلمہ جوہری ریاست ہے۔ امریکی حکام نے درست کہا ہے کہ ’بھارت کا عالمی قیادت کا خواب اور ترقی پاکستان سے تعلقات بہتر کئے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی‘
2007ءمیں ممبئی دھماکوں کے بعد بھارتی افواج نے پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس بروئے کار لانے کی دھمکیاں دی تھیں۔ انہی دنوں بھارتی حکمرانوں نے بار بار یہ دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف پیشگی حملے کی ڈاکٹرائن پر عمل درآمد کرنے کا استحقاق محفوظ رکھتے ہیں۔ 29 ستمبر 2016ء کو بھارتی بری فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل رنویر سنگھ نے بتایا تھا کہ ’سرجیکل آپریشن کنٹرول لائن پر نصف رات شروع ہوا اور صبح تک چلا ‘ تاہم انہوں نے یہ واضح نہ کیا کہ ”سرجیکل سٹرائیک“ کن علاقوں میں کی گئی۔ انڈیا کی جانب سے ”سرجیکل سٹرائیک“ کے دعوے کے بعد پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ” انڈیا نے پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں کوئی سرجیکل آپریشن نہیں کیا تاہم بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر کیل، بھمبر اور لیپا سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی“۔ واضح رہے کہ گزشتہ تین برسوں میں بھارت نے ایک ہزار سے زائد بار سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ رواں سال 2018ءمیں یہ خلاف ورزی 400 سے زیادہ بار کی جا چکی ہے۔
پاکستان کی عسکری طاقت بھارتی عسکری طاقت کے ہم پلہ ہے اور افواج پاکستان نے ہمیشہ وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی ہے ۔ تاہم پاکستانی میڈیا نظریاتی اور ثقافتی محاذوں پر پاکستان کو محفوظ بنانے میں ناکام رہا ہے۔ اس ناکامی کی بڑی وجہ چند کالی بھیڑوں کی موجودگی ہے جو بھارتی تعریفوں کے گیت گاتے اور امن کی امیدیں لگاتے نہیں تھکتے۔ جب تک امن کی چند نام نہاد فارن فنڈڈ فاختائیں موجود ہیں، پاکستانی میڈیا اقوام عالم کے سامنے اپنے معاملات کو بیان نہیں کر سکتا۔ درحقیقت یہ فاختہ کے روپ میں گدھیں ہیں جو مادر وطن کے وجود کو بھی نوچ کر کھانے سے نہیں کتراتیں۔ ڈیوڈسن نے ممبئی حملوں کی حقیقت کو بے نقاب کر کے پاکستانی میڈیا کو بھارتی افواہوں کا بھونپو بننے کے بجائے بھارتی میڈیا کی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے مصدقہ دستاویز مہیا کر دی ہے۔ یاد رہے کہ بھارت سرکار کی پاکستان دشمنی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اس نے کھلاڑیوں اور فنکاروں ایسے امن کے سفیروں پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اب پاکستانی میڈیا کی ذمہ داری ہے کے وہ بھارت کے عوام اور اقوام عالم کو حقائق سے روشناس کروائے۔ وقت آن پڑا ہے کہ پاکستان کی متحرک سول سوسائٹی میڈیا کی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کرے اور اس ضمن میں عدالت عظمیٰ سے بھی رجوع کرے۔ بھارت کی سازشوں کے خلاف پاکستان کو اقوام متحدہ میں اپنا موقف پیش کرنا ہوگا۔ دفتر خارجہ کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کے کیس کے ساتھ ساتھ ممبئی حملوں کی تفتیش کا مقدمہ بھی لے کر جانا چاہئے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کا ساتواں باب سلامتی کونسل پر ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ جارحیت کے عوامل و اسباب کی تشخیص کر کے بین الاقوامی امن کو بحال کرنے کی کوشش کرے۔ اس باب کے مطابق پاکستان ممبئی حملوں کی تفتیش کے حوالے سے بین الاقوامی انکوائری کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کرسکتا ہے۔
بھارتی فوج کی اشتعال انگیز بیان بازی نے بین الاقوامی برادری کے کان کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ پاکستان اور بھارت جوہری طاقتیں ہیں اور ان کے مابین کسی بھی قسم کا تنازع عالمی امن کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ یہ امر تشویش ناک ہے کہ بھارت اپنی نو فرسٹ یوز جوہری حکمت عملی سے انحراف کر چکا ہے۔ گزشتہ برس بھارتی آرمی چیف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت اڑھائی محاذوں پر جنگ کیلئے تیار ہے۔ اس بیان نے خطے میں استحکام امن کو مزید خطرات لاحق کر دیئے۔ مزید برآں، پاکستان کو 3 ڈاکٹرائنز کا بھی سامنا ہے۔ جن میں پہلے نمبر پر بھارت کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن ہے ۔ دوسری، امریکی نیو ساﺅتھ ایشیاءپالیسی ہے جس کا اصل مقصد چین کے عالمی سیاسی و معاشی تسلط کو جنوبی ایشیاءمیں روکنا ہے ۔ تیسری ڈاکٹرائن فورتھ جنریشن وار کی خطرناک جنگی حکمت عملی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس کے تحت پاکستان دشمن قوتیں افواج پاکستان اور عوام کے مابین دوری پیدا کرنے، وفاق کو کمزور کرنے، صوبائیت کو ہوا دینے، لسانی اور مسلکی فسادات کروانے کا ایجنڈا رکھتی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ فورتھ جنریشن وار ہی تھی جس کی مدد سے امریکا نے یوگوسلاویہ ، عراق اور لیبیا کی شکست و ریخت کی۔
رواں سال بھارتی آرمی چیف نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی جوہری صلاحیتوں کو آزمانے سے نہیں کترائیں گے۔ جوہری طاقتوں کے مابین ایسی بیان بازی دونوں ممالک کے کروڑوں عوام کیلئے وبال جان بن سکتی ہے۔ ان شعبدہ بازیوں کے ذریعے بھارت ایسی پولیس سٹیٹ اپنے عوام اور اقوام عالم کے خلاف پراپیگنڈہ کررہی ہے۔ بھارتی عسکری و سیاسی قیادت اور میڈیا محض بھارتی عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کر کے گمراہ کر رہے ہیں۔ بھارتی حکمرانوں کے جنگی جنون کا عالم یہ ہے کہ گزشتہ برس2 فروری کو مودی حکومت نے دفاعی بجٹ میں 10 فیصد اضافہ کرتے ہوئے27 کھرب 40 ارب روپے مختص کئے۔ بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے مطابق نئے بجٹ میں تقریباً 8 کھرب 65 ارب روپے فوجی اخراجات کی مد میں جبکہ باقی 18 کھرب 75 ارب روپے نئے ہتھیاروں کی خریداری پر صرف کئے جائیں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے بجٹ کو سراہتے ہوئے اسے نئی نسل کا مستقبل قرار دیا تھا۔ وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق مودی نے دنیا بھر کے اسلحہ سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت میں اپنی مصنوعات کی پیداوار بڑھائیں۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ بھارت میں دفاعی ساز و سامان تیار کرنے والی زیادہ تر کمپنیاں سرکاری ہیں لیکن سامان کی فراہمی میں طویل تاخیر اور معیار سے متعلق مسائل سے دوچار رہی ہیں۔ اسلحے کی دوڑ میں خطے کے ہر ملک پر سبقت لے جانے کے اندھے جنون میں مبتلا بھارت نے اسرائیل سے اسلحہ کی درآمد و برآمد اور خرید و فروخت کے کئی معاہدے کر رکھے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھارت نے اپنی بحریہ کو مزید طاقتور بنانے کے لیے سات نئی فریگٹس اور 6 ایٹمی آبدوزوں کی خریداری پر 10 ارب پاﺅنڈ خرچ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ اس جنگی جنون پر برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ تک کو اظہار تشویش کرنا پڑا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خطے میں اسلحہ کی دوڑ میں بھارت پیش پیش ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کو بھی روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کی تیاری میں کسی قسم کی کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھنا چاہیے۔
گزشتہ برس، جرمن مصنف الیاس ڈیوڈسن نے ممبئی حملوں پر ایک تحقیقی کتاب تحریر کی۔ ان حملوں کو بھارت کا نائن الیون بھی کہا جاتا ہے۔ اس موازنے کی وجہ جانی نقصان نہیں بلکہ ان حملوں کی ابتداءاور تفتیش کے حوالے سے پائے جانے والے تنازعات ہیں جو کسی بھی طور نائن الیون سے کم نہیں۔ کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے مصنف نے کہا کہ ”یہ کتاب بھارتی قوم کے ساتھ اس غداری کی عکاسی کرتی ہے جو بھارت کی بدعنوان، غاصب اور ظالم اشرافیہ نے اقتدار اور مفاد کی خاطر عام بھارتیوں کی زندگی کی اہمیت کو بالائے طاق رکھ کر انجام دی“ ڈیوڈسن نے بھارتی مظالم کی حقیقت افشاءکر کے عالمی برادری کے سامنے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ یقینا بھارتی راءکو ڈیوڈسن ایسے سراغ رساں تحقیق کاروں کی اشد ضرورت ہے۔ ڈیوڈسن نے ممبئی حملوں میں بھارت اور امریکا کے اہم اداروں کی ملی بھگت کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔ چنانچہ ممبئی حملوں کے بعد، بھارت کے دفاعی بجٹ میں 21 فیصد اضافہ کرنے کے علاوہ آئندہ برسوں میں اضافے کی شرح مزید بڑھانے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ ڈیوڈسن نے بھارتی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں پر بھی انگلی اٹھائی ہے کہ انہوں نے ممبئی حملوں کا منصوبہ تشکیل دینے، اس کو عملی جامہ پہنانے اور اس کی جعلی تفتیش کرنے میں کوئی کسر روا نہ رکھی۔ دونوں ممالک انسانیت سوز جرائم کرنے میںقدرتی حلیف ہونے کے ساتھ ساتھ جغرافیائی و تزویراتی شراکت دار بھی ہیں۔ یاد رہے کہ بھارت اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے جن میں اسرائیل کے میزائل دفاعی آلات سر فہرست ہیں۔ بھارت کا شمار اسرائیل کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کا ذخیرہ کرنے والے ممالک میں ہو تا ہے۔ مصنف نے بھارتی انتظامیہ کے خلاف کئی ثبوت جمع کئے۔انہوں نے بھارتی نائن الیون کی سرکاری تحقیقات پر برہمی کا اظہار کیا اور عالمی برادری کو اس کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے بھی کہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا، سیاستدانوں، عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے طے شدہ حکمت عملی کے تحت ممبئی حملوں سے کئی مفادات حاصل کئے۔ ان کی تحقیق کے مطابق بھارتی عدالتوں اور میڈیا نے کئی اہم چشم دید گواہوں کے بیانات کو منظر عام پر لانے سے ممانعت اختیار کی۔ علاوہ ازیں، کمانڈوز کے اس دستے کو بیانات ریکارڈ پر لانے سے بھی روک دیا گیا جنہیں آٹھ یادس مبینہ دہشت گرودوں سے نبرد آزما ہونے کےلئے بھیجا گیا۔ واضح رہے کہ بھارت کی تمام ریاستی مشینری اور دہشت گردوں کے درمیان چوہے اور بلی کی یہ لڑائی تین دن تک جاری رہی۔
جب کسی واقعے کے دوران ہی مجرموں کی شناخت ہوجائے تو یہ امر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ ممبئی حملوں کے دوران بھارتی میڈیا نے ششدر ہوکر الزامات کی بھرمار لگا دی۔ یہاں تک کہ ممبئی حملوں کے دوران بھارتی وزیر اعظم نے بھی دبے لفظوں اس بات کا عندیہ دیا کہ حملوں میں ملوث دہشت گرد تنظیم کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ ڈیوڈسن نے بھارتی میڈیا اور اداروں کے کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کا رویہ اندرونی سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مصنف کے مطابق بھارتی میڈیا اور سرکاری ادارے حقائق کو چھپاتے رہے۔ چنانچہ بھارتی عدالتوں نے اُن گواہوں کو نظر انداز کر دیا جو مبینہ دہشت گردوں کے ساتھ براہ راست تعلق میں آئے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”سیکڑوں گواہوں میں کسی ایک نے بھی دہشت گردوں کو کوئی ایک قتل کرتے نہیں دیکھا“ گواہوں کے بیانات اور ممبئی حملوں کی سرکاری تفتیش کے مطابق دہشت گردوں کی حقیقی تعداد آج بھی متضاد ہے۔ زندہ بچ جانے والے دہشت گردوں کی تعداد بھی تادم تحریر موضوعِ بحث ہے۔ اس بارے مختلف آراءپائی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ ممبئی حملوں کے مرکزی کردار کا پبلک ٹرائل بھی نہ ہوا۔ اس کے ایک وکیل کو عدالت نے ہٹا دیا جبکہ دوسرا وکیل قتل کر دیا گیا۔ اس کی پھانسی اور تدفین کے مقامات کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ اس کتاب میں سرکاری تفتیشی عمل میں تضادات اور بے قاعدگیوں کی طویل فہرست موجود ہے۔ مثال کے طور پر ایک جاں بحق شخص کو زندگی دے کر تفتیش کاروں نے پاکستان کے خلاف بیان درج کر ڈالا۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق ایک شخص کی ہلاکت دو مقامات پر درج کی گئی جبکہ رپورٹس میں ایک اور شخص کو تین مختلف جگہوں پر مارا گیا۔ تفتیش کے قواعد و قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے جائے وقوعہ کو بھی صاف کر دیا گیا۔ حملوں کے دوران بھارتی میڈیا نے خبریں دیں کہ دہشت گرد اے کے۔47 استعمال کر رہے تھے تاہم فرانزک رپورٹس میں کسی ایک گولی کی بھی شناخت نہ کی جاسکی جو اے کے۔47 سے چلائی گئی ہو۔ مصنف نے ”نیم فعال“ کیمروں کا بھی ذکر کیا ۔ ان کیمروں میں ریکارڈ شدہ تحریفی ویڈیو میں وقت کے فرق کے علاوہ ایڈٹنگ کے اثرات بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ مجرم کی حفاظت کرنا ارتکاب جرم سے بھی بڑا جرم ہے۔ بھارتی اداروں نے ممبئی حملوں کے اصل کرداروں کی پشت پناہی کی اور اہم گواہوں کو نظر انداز اور ثبوتوں مٹا کر بھارت سرکار نے اپنی عوام پر ظلم عظیم کیا۔ ڈیوڈسن کے مطابق عدالتوں میں پیش ہونے والے گواہوں کی اکثریت کا تعلق بھارتی میڈیا سے ہونا اس بات کی دلیل تھی کہ میڈیا اس سازش میں پیش پیش تھا۔ حملوںکے دوران میڈیا کوریج روک کرعوام تک معلومات کی رسائی بھی محدود کر دی گئی۔
اب اس حقیقت میں کوئی شک نہیں رہا کہ ممبئی حملوں کا اصل ہدف پاکستان تھا۔ ان کا مقصد پاکستان کی تحقیر کرنا تھا۔ انڈین میڈیا کے پراپیگنڈہ نے جوزف گیبلز کو بھی شرمسار کر دیا۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے علاوہ بھارت عالمی میڈیا منڈی کا بڑا حصہ دار بھی ہے۔ چنانچہ اس کے لئے دنیا کے سامنے اپنا موقف پیش کرنا آسان ہے۔ مبینہ دہشت گردی کا نشانہ بننے کے سبب بھارت اقوام عالم کے سامنے مظلوم بن کر پیش ہوا۔ ممبئی حملوں کے بعد بھارت ایک غیر محفوظ ریاست کے بجائے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا علمبردار بھی بن گیا۔ اس مظلومیت نے بھارت کو حق خود ارادیت کی کئی تحریکوں کو آہنی ہاتھوں سے کچلنے کا موقع فراہم کردیا۔ ان وجوہات کی بناءپر بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند عوام کو دبانے کا جواز مل گیا۔ جبکہ کشمیری عوام کے جذبات و خواہشات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کے سرکاری امتحان میں جغرافیا کے سوالیہ پرچے میں پاکستانی کشمیر کو آزاد کشمیر لکھا گیا۔
بھارت میں حکومت کانگریس کی ہو یا بی جے پی کی، اسلام اور پاکستان سے دشمنی ان کے لاشعور میں رچی بسی ہے۔ بھارتی حکمران پاکستان، اسلام اور اقلیتوں کے حوالے سے منفی بیان بازیاں اور کارروائیاں کرتے نہیں تھکتے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی خطے میں رام راج قائم کرنے کا خواب رکھتی ہے۔ 28 فروری 2018ء کو بھارت نے مذہبی آزادی سے متعلق امریکی عالمی کمیشن کے وفد کو ویزا دینے سے تیسری مرتبہ انکار کر دیا۔ یہ کمیشن بھارت کے سیاسی و سماجی رہنماﺅں سے ملنا، وہاںکی انسانی حقوق کی صورت حال اور مذہبی آزادی کا جائزہ لینا چاہتا تھا لیکن واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے نے اس کمیشن کے وفد کو ویزا دینے سے انکار کردیا۔ وفد کے رکن تھامس ریس کا کہنا تھا کہ ”نئی دہلی عیسائیوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مظالم کو عالمی برادری سے چھپانا چاہتا ہے“ انہوں نے مزید کہا کہ”بھارت میں سرکاری سرپرستی میں ہندوتوا کی مہم چلائی جارہی ہے“ ۔ واضح رہے کہ ایک جانب بھارتی حکمران شدھی اور سنگھٹن ایسی انتہاءپسند تحریکوں کا احیاءکر رہے ہیں تو دوسری طرف وہ ویشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شیو سینا ایسی درجنوں عسکریت پسند منظم مسلح تنظیموں کی غارت گریوں سے عمداً چشم بھی پوشی کر رہے ہیں۔ امریکا نے 2002ء میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کو انسانی حقوق کی بدترین پامالی قرار دیتے ہوئے نریندر مودی کو امریکا کا ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ جون 2014ء کے بعد امریکی اقدار اور پالیسیوں میں کلیتاً تغیر آ گیا ہے۔ باراک اوباما انتظامیہ نریندر مودی اور زعفرانی انقلاب کے علمبردار جن سنگھی سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کو سول نیوکلیئر اتحادی کی حیثیت سے مزید رعایتوں اور معاہدوں کا حقدارسمجھنے لگی۔ ایسے دوہرے معیار نے امریکی ساکھ کو عالمی سطح پر نقصان پہنچایا ہے۔
بھارت 2006ء سے امریکا کا اعلانیہ نیوکلیئر اتحادی اور گلوبل پارٹنر ہے۔ اس شراکت داری کے تحت، امریکی انتظامیہ چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لئے بھارت کو جوہری اور نیم جوہری آلات و ہتھیاروں کی فراہمی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارت علاقائی امن کو تہ و بالا کرنے کے لئے دنیا بھر کے اسلحہ ساز ممالک سے ہتھیار خرید رہا ہے۔ امریکی تعاون سے بھارت نے کئی مقامات پر ری پراسیسنگ پلانٹس بھی لگا رکھے ہیں۔ ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے مطابق بھارتی جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا عمل انتہائی غیرمحفوظ ہے اور کسی بھی وقت ہولناک حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔ بھارت کسی بھی طور چین کا حربی و معاشی میدان میں مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ چنانچہ بھارت اپنی اقتصادی، اسلحی اور عسکری بالادستی کے بل بوتے پر کمزور اور چھوٹے ہمسایہ ممالک کو دباﺅ میں رکھنا چاہتا ہے۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ بھارت خطے میں اسلحے کی دوڑ کو پروان چڑھاتا رہا ہے۔ رسمی عسکری طاقت ہو یا جوہری ہتھیاروں کا حصول، بھارت نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک پر فوجی اثر و رسوخ کی بناءپر تسلط قائم کرنے کی کوشش کی۔ بھارت اور امریکا کے مابین جوہری معاہدے خطے میں امن و امان کو تہ و بالا کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔ مغربی تجزیہ کار بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کا جوہری پروگرام اور ہتھیاروں کا حصول محض بھارتی دھمکیوں کا جواب ہیں۔ یقینا، پاکستان کی اولین ترجیح عسکری طاقت کا توازن قائم رکھ کر خطے میں استحکام امن کا حصول ہے۔ بھارت کا عسکری طاقت کا خبط اس قدر بڑھ چکا ہے کہ وہ خطے سے دور اہداف کو نشانہ بنانے والے میزائل بنا رہا ہے۔ اس نے جوہری آبدوزوں اور ایئرکرافٹ کیرئیرز کی خرید کا کام بھی تیز کر دیا ہے۔ پاکستان نے رد عمل کے طور پر بابر تھری میزائل کا کامیاب تجربہ اور چین سے آٹھ آبدوزوں کی خرید کا معاہدہ کیا۔ حال ہی میں پاک بحریہ نے بحیرہ ¿ عرب میں درمیانے فاصلے تک مارنے والے میزائل کا بھی کامیاب تجربہ کیا۔
بھارتی وزیراعظم نے 2016ءمیں کیرالہ کے شہر کوجھ کوڈ میں بی جے پی کی ریلی سے عوامی خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”بھارت پوری دنیا میں پاکستان کو الگ تھلگ کرنے میں کامیاب رہا ہے اور وہ یہ کام مزید تیز کرے گا“ یہ ایک الم ناک حقیقت ہے کہ بھارت پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم ایک پلان کے تحت چلا رہا ہے۔ وہ عالمی سفارتی سطح پر اپنے تئیں پاکستان کو تنہا کرنے کے بعد اس پر اقتصادی پابندیاں لگوانے کا خواہاں ہے۔ اس ضمن میں حال ہی میں پیرس میں ہونے والی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی کانفرنس میں بھارت کے ایماءپر امریکا اور چند مغربی ممالک کی کوشش تھی کہ پاکستان کا نام بھی ایران، ایتھوپیا اور دیگر 7 ممالک کی طرح گرے لسٹ میں شامل کردیا جائے۔اس اجلاس میں بھارت اور امریکا اپنی اس خواہش کو عملی جامہ نہ پہنا سکے تاہم پاکستان کو جون تک مہلت دی گئی ہے کہ وہ ہدایت کے مطابق انتظامی و قانونی اصلاحات کر کے دہشت گردی کی بیخ کنی کرے۔ ممبئی حملوں کا مقصد بھی پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے بدنام کر کے سفارتی سطح پر تنہا کرنا تھا تا کہ اس کی داخلی معیشت لڑکھڑا جائے۔ البتہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے پلیٹ فارم سے بھارت پاکستان پر مزید اقتصادی پابندیاں لگانے کے لیے اُس کا نام پہلے مرحلے پر گرے لسٹ میں اور بعد ازاں بلیک لسٹ میں شامل کروانا چاہتا ہے تا کہ پاکستان عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے معاشی پابندیوں کا ہدف بنایا جائے۔ ماضی میں امریکا پریسلر ترامیم اور مئی 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر اقصادی پابندیاں لگا چکا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی، داخلی خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کے تحفظ کے لیے جان کی بازی لگانے والی اس قوم نے پابندیوں کی پرواکئے بغیر داخلی معیشت کو مستحکم رکھا۔ ممبئی حملوں کے تقریباً 10 برس بعد بھارت اپنے پرانے خواب کو تعبیر دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور مشیر خارجہ نے قوم کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کرنے کی امریکی و مغربی اور بھارتی کوششوں کو کامیابی حاصل نہ ہو گی۔ یقیناً، پاکستان عالمی برادری کی امنگوں پر اسی طرح پورا اترے گا جس طرح پاکستان نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا اور آج بھی کر رہا ہے۔
ہمسایہ ممالک کے خلاف بھارتی عزائم کی طویل تاریخ موجود ہے۔ پاکستان کے علاوہ نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا اور چین بھی بھارت کی میلی نگاہوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ بھارت چانکیہ کوتیلیہ کی حکمت عملی پر کار فرما ہو کر اپنے ہمسایہ ممالک کو اولین دشمن اور دشمن کے ہمسایہ ممالک کو اپنا بہترین دوست قرار دیتا ہے۔ سری لنکا کے عقب میں مالدیپ، بنگلہ دیش کے عقب میں بھوٹان، چین کا ہمسایہ جاپان اور پاکستان کے مغربی ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان بھارت کی سیاسی جغرافیائی حکمت عملی میں اہم شراکت دار ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک میں باغیوں کی حمایت کی ہے۔ مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی ہو یا سری لنکا میں تامل ٹائیگرز، دونوں تنظیموں کو بھارت کی جانب سے حمایت، تربیت اور ساز و سامان مہیا ہوتا رہا۔ بھارت خطے کا تھانےدار بننے کے خبط میں پاکستان کو بھی بھوٹان، نیپال اور سکم بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے جبکہ پاکستان ایک مسلمہ جوہری ریاست ہے۔ امریکی حکام نے درست کہا ہے کہ ’بھارت کا عالمی قیادت کا خواب اور ترقی پاکستان سے تعلقات بہتر کئے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی‘
2007ءمیں ممبئی دھماکوں کے بعد بھارتی افواج نے پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس بروئے کار لانے کی دھمکیاں دی تھیں۔ انہی دنوں بھارتی حکمرانوں نے بار بار یہ دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف پیشگی حملے کی ڈاکٹرائن پر عمل درآمد کرنے کا استحقاق محفوظ رکھتے ہیں۔ 29 ستمبر 2016ء کو بھارتی بری فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل رنویر سنگھ نے بتایا تھا کہ ’سرجیکل آپریشن کنٹرول لائن پر نصف رات شروع ہوا اور صبح تک چلا ‘ تاہم انہوں نے یہ واضح نہ کیا کہ ”سرجیکل سٹرائیک“ کن علاقوں میں کی گئی۔ انڈیا کی جانب سے ”سرجیکل سٹرائیک“ کے دعوے کے بعد پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ” انڈیا نے پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں کوئی سرجیکل آپریشن نہیں کیا تاہم بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر کیل، بھمبر اور لیپا سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی“۔ واضح رہے کہ گزشتہ تین برسوں میں بھارت نے ایک ہزار سے زائد بار سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ رواں سال 2018ءمیں یہ خلاف ورزی 400 سے زیادہ بار کی جا چکی ہے۔
پاکستان کی عسکری طاقت بھارتی عسکری طاقت کے ہم پلہ ہے اور افواج پاکستان نے ہمیشہ وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی ہے ۔ تاہم پاکستانی میڈیا نظریاتی اور ثقافتی محاذوں پر پاکستان کو محفوظ بنانے میں ناکام رہا ہے۔ اس ناکامی کی بڑی وجہ چند کالی بھیڑوں کی موجودگی ہے جو بھارتی تعریفوں کے گیت گاتے اور امن کی امیدیں لگاتے نہیں تھکتے۔ جب تک امن کی چند نام نہاد فارن فنڈڈ فاختائیں موجود ہیں، پاکستانی میڈیا اقوام عالم کے سامنے اپنے معاملات کو بیان نہیں کر سکتا۔ درحقیقت یہ فاختہ کے روپ میں گدھیں ہیں جو مادر وطن کے وجود کو بھی نوچ کر کھانے سے نہیں کتراتیں۔ ڈیوڈسن نے ممبئی حملوں کی حقیقت کو بے نقاب کر کے پاکستانی میڈیا کو بھارتی افواہوں کا بھونپو بننے کے بجائے بھارتی میڈیا کی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے مصدقہ دستاویز مہیا کر دی ہے۔ یاد رہے کہ بھارت سرکار کی پاکستان دشمنی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اس نے کھلاڑیوں اور فنکاروں ایسے امن کے سفیروں پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اب پاکستانی میڈیا کی ذمہ داری ہے کے وہ بھارت کے عوام اور اقوام عالم کو حقائق سے روشناس کروائے۔ وقت آن پڑا ہے کہ پاکستان کی متحرک سول سوسائٹی میڈیا کی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کرے اور اس ضمن میں عدالت عظمیٰ سے بھی رجوع کرے۔ بھارت کی سازشوں کے خلاف پاکستان کو اقوام متحدہ میں اپنا موقف پیش کرنا ہوگا۔ دفتر خارجہ کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کے کیس کے ساتھ ساتھ ممبئی حملوں کی تفتیش کا مقدمہ بھی لے کر جانا چاہئے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کا ساتواں باب سلامتی کونسل پر ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ جارحیت کے عوامل و اسباب کی تشخیص کر کے بین الاقوامی امن کو بحال کرنے کی کوشش کرے۔ اس باب کے مطابق پاکستان ممبئی حملوں کی تفتیش کے حوالے سے بین الاقوامی انکوائری کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کرسکتا ہے۔
بھارتی فوج کی اشتعال انگیز بیان بازی نے بین الاقوامی برادری کے کان کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ پاکستان اور بھارت جوہری طاقتیں ہیں اور ان کے مابین کسی بھی قسم کا تنازع عالمی امن کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ یہ امر تشویش ناک ہے کہ بھارت اپنی نو فرسٹ یوز جوہری حکمت عملی سے انحراف کر چکا ہے۔ گزشتہ برس بھارتی آرمی چیف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت اڑھائی محاذوں پر جنگ کیلئے تیار ہے۔ اس بیان نے خطے میں استحکام امن کو مزید خطرات لاحق کر دیئے۔ مزید برآں، پاکستان کو 3 ڈاکٹرائنز کا بھی سامنا ہے۔ جن میں پہلے نمبر پر بھارت کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن ہے ۔ دوسری، امریکی نیو ساﺅتھ ایشیاءپالیسی ہے جس کا اصل مقصد چین کے عالمی سیاسی و معاشی تسلط کو جنوبی ایشیاءمیں روکنا ہے ۔ تیسری ڈاکٹرائن فورتھ جنریشن وار کی خطرناک جنگی حکمت عملی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس کے تحت پاکستان دشمن قوتیں افواج پاکستان اور عوام کے مابین دوری پیدا کرنے، وفاق کو کمزور کرنے، صوبائیت کو ہوا دینے، لسانی اور مسلکی فسادات کروانے کا ایجنڈا رکھتی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ فورتھ جنریشن وار ہی تھی جس کی مدد سے امریکا نے یوگوسلاویہ ، عراق اور لیبیا کی شکست و ریخت کی۔
رواں سال بھارتی آرمی چیف نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی جوہری صلاحیتوں کو آزمانے سے نہیں کترائیں گے۔ جوہری طاقتوں کے مابین ایسی بیان بازی دونوں ممالک کے کروڑوں عوام کیلئے وبال جان بن سکتی ہے۔ ان شعبدہ بازیوں کے ذریعے بھارت ایسی پولیس سٹیٹ اپنے عوام اور اقوام عالم کے خلاف پراپیگنڈہ کررہی ہے۔ بھارتی عسکری و سیاسی قیادت اور میڈیا محض بھارتی عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کر کے گمراہ کر رہے ہیں۔ بھارتی حکمرانوں کے جنگی جنون کا عالم یہ ہے کہ گزشتہ برس2 فروری کو مودی حکومت نے دفاعی بجٹ میں 10 فیصد اضافہ کرتے ہوئے27 کھرب 40 ارب روپے مختص کئے۔ بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے مطابق نئے بجٹ میں تقریباً 8 کھرب 65 ارب روپے فوجی اخراجات کی مد میں جبکہ باقی 18 کھرب 75 ارب روپے نئے ہتھیاروں کی خریداری پر صرف کئے جائیں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے بجٹ کو سراہتے ہوئے اسے نئی نسل کا مستقبل قرار دیا تھا۔ وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق مودی نے دنیا بھر کے اسلحہ سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت میں اپنی مصنوعات کی پیداوار بڑھائیں۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ بھارت میں دفاعی ساز و سامان تیار کرنے والی زیادہ تر کمپنیاں سرکاری ہیں لیکن سامان کی فراہمی میں طویل تاخیر اور معیار سے متعلق مسائل سے دوچار رہی ہیں۔ اسلحے کی دوڑ میں خطے کے ہر ملک پر سبقت لے جانے کے اندھے جنون میں مبتلا بھارت نے اسرائیل سے اسلحہ کی درآمد و برآمد اور خرید و فروخت کے کئی معاہدے کر رکھے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھارت نے اپنی بحریہ کو مزید طاقتور بنانے کے لیے سات نئی فریگٹس اور 6 ایٹمی آبدوزوں کی خریداری پر 10 ارب پاﺅنڈ خرچ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ اس جنگی جنون پر برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ تک کو اظہار تشویش کرنا پڑا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خطے میں اسلحہ کی دوڑ میں بھارت پیش پیش ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کو بھی روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کی تیاری میں کسی قسم کی کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھنا چاہیے۔
Comments
Post a Comment