شہباز شریف اور عوامی فلاحی منصوبے
تحریر: محمد اسامہ شفیق
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف صوبہ بھر میں حفظان صحت کے شعبہ میں بڑی پیش رفت کا اعادہ کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل، اپنے پچھلے دور حکومت میں وہ صوبہ پنجاب میں تعلیمی دھماکہ کرنے میں بھی کامیاب رہے تھے۔ تاہم اس بار ان کی نظر صحت کے شعبے میں ترقی پر ڈٹی ہے۔ یقینا ایسی خدمات تاریخی اعتبار سے انہیں پنجاب کہ عظیم حکمرانوں میں سرفہرست رکھنے میں معاون ثابت ہوںگی۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ بہر کیف، انہیں خادم اعلیٰ کا لقب آسانی سے حاصل نہیں ہوا۔ اس کے لئے انہوں نے شب و روز تگ و دو کی ہے۔
پنجاب بھر میں حفظان صحت کی سہولیات کو یقینی بنانے کے لئے وزیر اعلیٰ نے شعبہ صحت کے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی ترامیم کو اپنا اولین مقصد بنا لیا ہے۔ صوبہ میں صحت کے لئے مختص بجٹ میں بھی بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔ حالیہ مالی سال 2017-18 کے لئے صوبہ بھر میں صحت کے شعبے پر 120 ارب روپے کی کثیر رقم خرچ کی جائے گی جو گزشتہ مالی سال کی نسبت 60 فیصد کا اضافہ ہے۔ یقینا یہ اقدام شعبہ صحت کے حوالے سے حکومتی سنجیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے مطابق پنجاب کے شعبہ صحت کو دو ذیلی شعبوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان شعبوں کی کڑی عوامی نگرانی کے لئے دو الگ وزارتیں بھی قائم کی گئیں ہیں۔ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے بعد، سابق وزیر صحت خواجہ عمران نذیر بنیادی و ثانوی حفظان صحت کے وزیر ہیں جبکہ وزیر اعلی کے سابق مشیر صحت، خواجہ سلمان رفیق اب خصوصی حفظان صحت و تعلیم طب کے وزیر بن چکے ہیں۔
بنیادی و ثانوی حفظان صحت کا شعبہ انسدادی حکمت عملی پر کار فرما ہے۔ اس شعبہ کا نصب العین صحت مند پنجاب کا قیام ہے جس کے لئے عوام الناس کو بیماریوں سے بچانا انتہائی ضروری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دور حکومت میں ڈینگی کی وباءنے صحت کے شعبہ میں وبھال مچا دیا تھا۔ خادم اعلیٰ کے لئے یہ صورتحال انتہائی پریشان کن تھی لیکن وہ بہادری کے ساتھ اس مسئلے کے حل کے لئے کوششیں کرنے لگے۔ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ نے سری لنکا کے تجربہ سے مستفید ہونے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ سری لنکا سے ماہرین کو مدعو کیا گیا۔ ڈینگی سے نبرد آزما ہونے کے لئے وزیر اعلی نے قابل ترین ڈاکٹروں کی تعیناتی بھی کی جن میں ڈاکٹر تجمل مصطفی کا نام سر فہرست ہے۔
حفظان صحت کے کثیر بجٹ میں 36 ارب روپے کی لاگت سے صوبہ بھر میں سو سے زائد سرکاری ہسپتالوں کی تجدید عمل میں لائی جائے گی۔ ان ہسپتالوں میں ہیپاٹائٹس کے کے کلینکس کا قیام بھی اسی منصوبے کے تحت کیا جائے گا۔ اس کے لئے قانونی کارروائی بھی مکمل کی جا چکی ہے اور پنجاب ہیپاٹائٹس آرڈیننس نافذ کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ہسپتالوں میں 12 ارب روپے کی لاگت سے دوائیاں بھی مہیا کی جائیں گی جبکہ ٹی بی، ایڈز اور ہیپا ٹائٹس کے مریضوں کو گھروں میں ادویات فراہم کی جائیں گی۔
پنجاب کے دیہی علاقوں میں حاملوں خواتین کو ہسپتالوں تک پہنچانے کے لئے ”سیف مدر ایمبولینس سروس“ کا آغاز بھی کیا جا چکا ہے۔ نومولود بچوں کی حفظان صحت کو یقینی بنانے کے لئے ہسپتالوں میں ہیپاٹائٹس برتھ ڈوز اور” روٹا وائرس“ ویکسین بھی متعارف کی جاچکی ہے۔
اس تمام پیشگی سے وزیر اعلیٰ نے عوامی اعتماد کو بحال کر کے واضح اعلان کر دیا ہے کہ وہ پنجاب بھر میں معیار حفظان صحت کو بہتر بنانے کی جانب کار فرما ہیں۔ نقل و حمل کے شعبے میں صوبہ پنجاب مثل یورپ ہے لیکن اب وزیر اعلیٰ کا ہدف یورپ کے جدید فلاحی شعبہ ¿ صحت کو پاکستان میں نقل کرنا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جدید معیار صحت کو بہتر بنانے کی خاطر آگاہی، تفہیم اور تشخیص امراض اہمیت کے حامل ہیں۔ اس مقصد کے لئے لاہور، ملتان، راولپنڈی اور بہاولپور ایسے بڑے شہروں میں جدید ترین سہولیات سے آراستہ لیبارٹریوں کا قیام لائق تحسین ہے۔
حکومت پنجاب نے ایچ آئی وی اور ایڈزایسے مہلک مرض سے نبرد آزما ہونے کے لئے عوامی آگاہی کی مہم کو تیز کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ صوبہ بھر میں ایچ آئی وی مثبت مریضوں کی تعداد 80,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے زیر سایہ 15 مراکز برسر عمل ہیں۔ حال ہی میں وزیر اعلیٰ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے چنیوٹ میں ایڈز کے ایسے ایک مرکز کا افتتاح کیا۔ اس سے قبل، چنیوٹ کے مریضوں کو معائنے کے لئے دو گھنٹے سفر کرنے کے بعد فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال جانا ہوتا تھا۔
شعبہ ¿ صحت میں روزگار کے حوالے سے بھی حکومت پنجاب کے حالیہ اقدام لائق تحسین ہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم طب خواجہ سلمان رفیق نے مزید مواقع کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔ مشیر صحت کی حیثیت سے ان کا تجربہ خاصا کارساز ثابت نہ ہوا۔ وہ مسلسل ینگ ڈاکٹرز کے ساتھ گتھم گتھا ہوتے رہے لیکن شاید اب وہ تلافی کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عہد کیا ہے کہ شعبہ ¿ صحت میں توسیع کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی مہیا کریں گے جن میں میرٹ کو واحد اور اولین ترجیح دی جائے گی۔
خادم اعلیٰ کی مقبولیت شک و شبہ سے بالاتر ہے ۔ وہ ناصرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیاءمیں اپنے ہم منصبوں کے لئے لائق رشک ہیں۔ پاکستان کی پانچوں وفاقی اکائیوں میں ان کی شہرت ایک ایسے منتظم کی ہی جو عوامی خدمت کے جوش و جذبے، قوت اعصاب اور متحرک شخصیت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اس سلسلے میں عوام کے خادم اعلیٰ نے حال ہی میں رائے ونڈ کے سرکاری ہسپتال کا دورہ کیا۔ عوامی نمائندگان جب اپنا پروٹوکول بالائے طاق رکھ کر عوام کی خدمت کے مقصد سے ان میںبآسانی چلے جاتے ہیں تو اس سے عوام کا حوصلے اور عزائم بلند ہوتے ہیں۔ شہباز شریف نے ہسپتال میں مختلف وارڈز کا دورہ کیا اور عملے کو سی ٹی سکین مشین فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے ڈینٹل اور آنکھ ناک گلہ کے کلینکس کو جلد سے جلد فعال کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ شہباز کی پرواز نے مردہ جسموں کو بھی تحریک کی جلا بخشی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی نیک نیتی اور منصوبوں کی تیزی سے تکمیل کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ عوامی فلاحی منصوبوں کو شہباز شریف ہمیشہ اپنا ذاتی مفاد جان کر انجام دیتے ہیں۔ عوام کے لئے یہ امر خوش آئند ہے کہ وزیر اعلیٰ نے صفائی، تعلیم اور آمد و رفت کی اعلیٰ ترین سہولیات کی فراہمی کے بعد شعبہ صحت میں بھی تجدید و ترقی کو اپنا نصب العین بنا لیا ہے اور اس جانب کارفرما ہیں۔
Shafiq, M Osama. "Shehbaz Sharif or Awami Falahi Mansobay." Nai Baat (Lahore, Pakistan), December 21, 2017. Accessed December 21, 2017. http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/21-12-2017/details.aspx?id=p13_08.jpg
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف صوبہ بھر میں حفظان صحت کے شعبہ میں بڑی پیش رفت کا اعادہ کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل، اپنے پچھلے دور حکومت میں وہ صوبہ پنجاب میں تعلیمی دھماکہ کرنے میں بھی کامیاب رہے تھے۔ تاہم اس بار ان کی نظر صحت کے شعبے میں ترقی پر ڈٹی ہے۔ یقینا ایسی خدمات تاریخی اعتبار سے انہیں پنجاب کہ عظیم حکمرانوں میں سرفہرست رکھنے میں معاون ثابت ہوںگی۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ بہر کیف، انہیں خادم اعلیٰ کا لقب آسانی سے حاصل نہیں ہوا۔ اس کے لئے انہوں نے شب و روز تگ و دو کی ہے۔
Shafiq, M Osama. "Shehbaz Sharif or Awami Falahi Mansobay." Nai Baat (Lahore, Pakistan), December 21, 2017. Accessed December 21, 2017. http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/21-12-2017/details.aspx?id=p13_08.jpg
Comments
Post a Comment